PAPAM expresses concern over delay in new auto policy

نئی آٹو پالیسی میں تاخیر پر پاپام کا اظہارِ تشویش

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (PAAPAM) نے پاکستان کی نئی آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی کو حتمی شکل دینے میں طویل تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث ملک کی آٹو موٹیو مینوفیکچرنگ انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

چیئرمین پاپام، عثمان اسلم ملک نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی کی منظوری میں تاخیر نے ایسوسی ایشن سے وابستہ صنعتوں میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جبکہ ان میں سے بیشتر ادارے پہلے ہی مالی اور آپریشنل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، “نئی آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی میں پاکستان کی آٹو پارٹس اور کمپوننٹس مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے فروغ اور استحکام کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، کیونکہ یہی شعبہ ملک کی آٹو موٹیو ویلیو چین کی بنیاد ہے۔”

حج پالیسی 2027 تا 2030 – پاکستان کی تاریخ کی پہلی چار سالہ حج پالیسی

عثمان اسلم ملک نے کہا کہ گزشتہ دو آٹو پالیسیوں میں بنیادی توجہ نئی گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کو ملک میں لانے پر مرکوز رہی۔ اگرچہ اس پالیسی کے نتیجے میں مارکیٹ میں آٹو موٹیو برانڈز کی تعداد میں اضافہ ہوا، تاہم مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری (لوکلائزیشن)، انجینئرنگ صلاحیتوں اور ملکی ٹیکنالوجی کے فروغ پر خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی، جس کے باعث مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ کا شعبہ کمزور ہوا۔

انہوں نے حکومتِ پاکستان پر زور دیا کہ نئی آٹو پالیسی کو لوکلائزیشن، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن، انجینئرنگ صلاحیتوں میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس حوالے سے واضح اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو پاکستان اپنی صنعتی بنیاد کو مزید کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ درآمدی گاڑیوں اور پرزہ جات پر انحصار بڑھانے کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا، جس سے مقامی صنعت کو شدید نقصان پہنچے گا۔

چیئرمین پاپام نے مزید مطالبہ کیا کہ حکومت کم از کم 10 سالہ مستحکم آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی متعارف کرائے تاکہ پالیسی کا تسلسل برقرار رہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو، صنعت کو طویل المدتی منصوبہ بندی کا موقع ملے اور ملک میں پائیدار صنعتی ترقی اور عالمی مسابقت کو فروغ حاصل ہو۔