خلا میں ہر چیز ہماری روزمرہ زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔ وہاں تقریباً مائیکرو گریویٹی (Microgravity) کی وجہ سے نہ صرف چلنا پھرنا بدل جاتا ہے بلکہ آنسوؤں کا برتاؤ بھی حیرت انگیز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا بازوں کے معمولی سے جذبات بھی سائنسی دلچسپی کا باعث بن جاتے ہیں۔
زمین پر جب ہم روتے ہیں تو کششِ ثقل آنسوؤں کو گالوں پر بہا دیتی ہے۔ لیکن خلا میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں آنسو نیچے گرنے کے بجائے آنکھوں کے گرد چھوٹے چھوٹے پانی کے گول قطروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر خلا باز آنسو صاف نہ کرے تو یہ قطرے چہرے پر تیرتے رہ سکتے ہیں، جس سے آنکھوں میں جلن، دھندلاہٹ اور وقتی طور پر دیکھنے میں دشواری بھی ہو سکتی ہے۔
کیا واقعی چاند انسانوں کی قسمت، رویے یا مستقبل کو بدل سکتا ہے؟
اسی لیے خلا باز عام طور پر رومال یا تولیے سے آنسو صاف کرتے ہیں، کیونکہ خلا میں پانی کے آزاد تیرتے ہوئے قطرے الیکٹرانک آلات کے لیے بھی مسئلہ بن سکتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خلا میں رونا ممکن تو ہے، لیکن وہاں آنسوؤں کا سفر زمین جیسا ہرگز نہیں ہوتا۔ صرف کششِ ثقل کی عدم موجودگی ایک عام انسانی عمل کو بھی حیران کن سائنسی مظہر میں بدل دیتی ہے۔




