Can bacteria really survive on the surface of Mars?

کیا بیکٹیریا واقعی مریخ کی سطح پر زندہ رہ سکتے ہیں؟

اگر آج ہم مریخ کی سرخ مٹی میں ایک عام بیکٹیریا رکھ دیں، تو کیا وہ زندہ رہے گا؟ یا صرف چند لمحوں میں ختم ہو جائے گا؟ یہ سوال سائنس دانوں کو بھی برسوں سے حیران کر رہا ہے۔

مریخ پہلی نظر میں زمین جیسا لگتا ہے، لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہاں کا ماحول انتہائی پتلا ہے، آکسیجن نہ ہونے کے برابر ہے، درجہ حرارت اکثر منفی درجنوں ڈگری تک گر جاتا ہے، اور سورج سے آنے والی خطرناک الٹرا وائلٹ اور کائناتی شعاعیں براہِ راست سطح تک پہنچتی ہیں۔ یہی وجوہات مریخ کی سطح کو زندگی کے لیے نہایت سخت بنا دیتی ہیں۔

تاہم، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زمین پر موجود کچھ انتہائی مضبوط ایکسٹریموفائل (Extremophile) بیکٹیریا شدید سردی، خشکی اور تابکاری کو کافی حد تک برداشت کر سکتے ہیں۔ لیبارٹری تجربات میں بعض اقسام نے مریخ جیسے مصنوعی ماحول میں محدود وقت تک بقا دکھائی، لیکن مریخ کی اصل سطح پر طویل عرصے تک زندہ رہنا اب بھی انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔

اگر کوئی خلا باز خلا میں رو پڑے تو اس کے آنسو زمین کی طرح نیچے گریں گے ؟

اسی لیے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر مریخ پر کبھی جرثومی زندگی موجود ہو، تو اس کے سطح پر ہونے کے بجائے زیرِ زمین برف، نمکین پانی کے ذخائر یا چٹانوں کے اندر محفوظ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں، جہاں تابکاری نسبتاً کم پہنچتی ہے۔

مستقبل کے مشنز کا ایک اہم مقصد یہی ہے کہ معلوم کیا جائے:
کیا مریخ صرف ایک مردہ دنیا ہے، یا اس کی گہرائیوں میں آج بھی ننھی سی زندگی سانس لے رہی ہے؟