50-year-old mystery of the atomic nucleus solved!

اٹامک نیوکلیس کا 50 سال پرانا راز حل!

اٹامک نیوکلیس(Atomic Nucleus) کے اندر چھپا ایک ایسا معمہ، جس نے نصف صدی سے سائنسدانوں کو حیران کر رکھا تھا، بالآخر حل کر لیا گیا ہے۔ امریکہ کے Facility for Rare Isotope Beams (FRIB) میں ہونے والی نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ بعض ایٹمی مراکز سے خارج ہونے والی غیر معمولی کم توانائی والی گاما شعاعوں (Low-Energy Gamma Rays) کی اصل وجہ مرکزِ ایٹم کے اندر ہونے والی مقناطیسی تبدیلیاں (Magnetic Transitions) ہیں۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Nature میں شائع ہوئی ہے اور اس میں امریکہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، ناروے اور جنوبی کوریا سمیت 25 اداروں کے سائنسدانوں نے حصہ لیا۔

سائنسدانوں نے زنک-70 (Zinc-70) کے ایٹمی مرکز کا انتہائی جدید آلات کی مدد سے باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے پہلی مرتبہ دو مختلف حالتوں میں موجود کاپر-70 (Copper-70) کے ایٹموں کے زوال (Beta Decay) کا موازنہ کیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ کم توانائی والی گاما شعاعوں میں غیر معمولی اضافہ دراصل ایٹم کے اندر ہونے والی مقناطیسی منتقلی کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی نامعلوم طبیعیاتی عمل کا۔

کیا بیکٹیریا واقعی مریخ کی سطح پر زندہ رہ سکتے ہیں؟

یہ دریافت صرف ایٹمی طبیعیات تک محدود نہیں بلکہ کائنات کی تاریخ کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہی عمل سپرنووا دھماکوں اور نیوٹرون ستاروں کے تصادم کے دوران نئے اور بھاری عناصر کی تشکیل میں اثر انداز ہوتا ہے۔ اس نئی سمجھ سے یہ اندازہ لگانا مزید درست ہو سکے گا کہ سونا، پلاٹینم اور دیگر بھاری عناصر کائنات میں کیسے وجود میں آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں ایٹمی طبیعیات، فلکی طبیعیات، جوہری توانائی اور قومی سلامتی سے متعلق تحقیق کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نئی تجرباتی تکنیک دیگر ایٹمی مراکز کے پوشیدہ راز دریافت کرنے کا راستہ بھی ہموار کرے گی۔

سائنس کی دنیا میں بعض اوقات ایک چھوٹی سی دریافت، پوری کائنات کو سمجھنے کا زاویہ بدل دیتی ہے، اور یہ تحقیق اسی نوعیت کی ایک تاریخی پیش رفت ہے۔