دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل کیمرہ جسے LSST Camera کہتے ہیں اس کی کل لاگت تقریباً 170 ملین ڈالرز کے قریب ہے جو کہ SLAC National laboratory میں تیار کی گئی ہے یہ کیمرہ چلی کے ویرا سی روبن آبزرویٹری میں نصب کیا گیا ہے جس کا سائز ایک چھوٹے کار کے برابر ہے اور اس کا وزن تقریباً 3 ٹن ہے اس کی 3200 میگا پکسل کی سنسر ایک ہی تصویر میں آسمان کا اتنا بڑا حصہ کھینچ سکتی ہے جتنا 45 چاند آپس میں مل کر بناتے ہیں
یہ کیمرہ ہر 40 سیکنڈ میں آسمان کی ایک نئی تصویر لیتا ہے اور اگلے 10 سالوں تک مسلسل پوری جنوبی آسمان کا نقشہ بنائے گی اس کا مقصد کائنات کی ایک ٹائم لیپس فلم تیار کرنا ہے جس میں وہ تمام تبدیلیاں محفوظ ہوں گی جو رات کے آسمان میں رونما ہوتی ہیں چاہے وہ کوئی ستارہ پھٹ رہا ہو کوئی سیارچہ گزر رہا ہو یا کوئی اور عجیب واقعہ
آئی ایم ایف ہمیں مخصوص اوقات میں سستی بجلی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہا
ماہرینِ فلکیات کو اس سے ڈارک میٹر اور ڈارک اینرجی جیسے کائنات کے بڑے رازوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ یہ کیمرہ اتنا حساس ہے کہ ہماری آنکھ سے 10 کروڑ گنا مدھم چیزوں کو بھی دیکھ سکتا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی ایک تصویر کو مکمل طور پر دیکھنے کے لیے 400 الٹرا ایچ ڈی ٹی وی اسکرینوں کی ضرورت ہوگی, یہ کیمرہ 2025 سے بلکل فعال ہے اور اگلے دس سالوں تک جنوبی آسمان کا پورا نقشہ بنائے گی اس کی وجہ سے کائنات کو دیکھنے کا ہمارا انداز یکسر بدل جائے گا




