وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے اگلے چند دنوں میں صنعتی فروغ پیکج پر مزید بات چیت کی ضرورت کا عندیہ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ساتویں جائزہ کے تحت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات اب تک بے نتیجہ رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ٹیکنیکل مذاکرات 4 مارچ سے شروع ہو کر ایک ہفتے سے زیادہ دن جاری رہے جس کے بعد فنڈ اور حکومت کے درمیان ہونے والے پالیسی سطح کے مذاکرات بھی اب تک بے نتیجہ ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کے ساتھ پالیسی کی سطح کی بات چیت کے حتمی مرحلے میں آئی ایم ایف اسٹاف مشن نے حکومت کے اعلان کردہ ریلیف اقدامات کے اثرات اور مالیاتی ضمانتوں پر مزید سوالات اٹھائے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پالیسی سطح کے مذاکرات میں آئی ایم ایف کو قائل کرنے میں ناکام رہا ہے کہ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات پر دیا جانے والا ریلیف کیسے پورا کرے گا ۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بھی اعتراضات اٹھا رہا ہے ۔
ذرائع کے مطابق صورت حال پاکستان کو آئی ایم ایف سے 96کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کے حصول میں مشکلات پیدا کر رہی ہے ۔
واضح رہے پاکستان آئی ایم ایف سے اب تک 6ارب ڈالر میں سے 3ارب ڈالر لے چکا ہے۔
دوسری جانب حکومت ستمبر میں آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔
حالیہ بات چیت کے بعد مذکورہ پیکیج پر حکومت کو ایک مفاہمت کی توقع ہے، تکنیکی بات چیت کے بعد ساتویں جائزہ کے لئے میمورنڈم آن اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کا متن زیر بحث آئے گا۔
جبکہ حکومت کو یقین ہے کہ میمورنڈن کو حتمی شکل دینے سے اپریل کے آخر میں آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس ہو گا۔




