اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 کی گلیوں میں 2 جون 2025 کی شام کسی کو کیا معلوم تھا کہ آج ایک 17 سالہ لڑکی کی زندگی کا آخری سورج ڈوبنے والا ہے۔ ثناء یوسف چترال کے ایک چھوٹے سے گاؤں چوئنج کی بیٹی تھی۔ پہاڑوں کی سرد فضاؤں میں پلنے والی یہ نوجوان لڑکی اپنے ساتھ اسلام آباد میں ایک چمک لے کر آئی تھی۔ خدا کی تخلیق ملاحظہ کریں کہ اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہوتی تھی، مسکراہٹ ایسی کہ جسے وہ خود بھی نہ روک پاتی تھی۔ ثناء یوسف کی اکثر ویڈیوز میں یہ نوٹ کیا کہ وہ ہر چند کوشش کے باوجود اپنی مسکراہٹ نہیں روک سکتی تھی۔ نتیجتاً وہ کھل کر قہقہہ لگا دیتی تھی۔
ثناء یوسف اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے لیے مشہور تھی۔ اس کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 8 لاکھ فالوورز اور انسٹاگرام پر تقریباً 5 لاکھ فالوورز تھے۔ لاکھوں لوگ اس کی ویڈیوز دیکھتے۔ اس کی باتیں سنتے، اس کے چہرے پر نمایاں ہونے والی خوشی سے خوش ہوتے تھے۔
دوسری طرف فیصل آباد کے رہائشی 22 سالہ عمر حیات کو سب ‘کاکا’ کہتے تھے۔ اس نے کسی طرح ثناء کو سوشل میڈیا پر دیکھا اور اس سے رابطہ شروع کیا۔ پولیس کے مطابق عمر حیات عرف کاکا ثناء یوسف سے دوستی کرنا چاہتا تھا جس کے لیے وہ بار بار رابطہ کر رہا تھا لیکن ثناء کے انکار پر طیش میں آ کر اسے گولی مار دی۔ ثناء نے ‘نا’ کہا۔ بس یہی اس کا جرم تھا۔
عمر حیات نے 29 مئی کو ثناء سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ اسی روز ثناء کی 17 ویں سالگرہ تھی۔ عمر حیات 29 مئی کو فیصل آباد سے تحائف لے کر اسلام آباد پہنچا اور 6 گھنٹے تک مسلسل ثناء کو فون کرتا رہا اور ملنے کا تقاضا کرتا رہا جس پر ثناء اسے ٹالتی رہی۔ ذرا سوچیں۔۔ اپنی 17ویں سالگرہ پر یہ لڑکی گھبرائی ہوئی کسی انجان کو فون پر ٹال رہی تھی۔ کیک کاٹنے کی عمر میں وہ کسی کے طیش سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔ تحقیقات کے مطابق عمر حیات فیصل آباد سے کرائے پر لی گئی فارچونر گاڑی کے ذریعے اسلام آباد پہنچا۔ وہ پہلے 29 مئی اور پھر 2 جون کو ثناء یوسف سے ملنے اسلام آباد آیا تاہم ثناء نے دونوں بار ملاقات سے انکار کر دیا۔
عمران خان سے ملاقات کا معاملہ؛ وزیر اعلیٰ کے پی کی اسلام آباد پولیس سے تلخ کلامی
2 جون کو عمر حیات فیصل آباد سے پبلک ٹرانسپورٹ میں صبح 5 بجے اسلام آباد 26 نمبر پہنچا اور وہاں اس نے آن لائن فارچونر گاڑی بلوائی جس میں بیٹھ کر وہ ثناء کی رہائش گاہ کے قریب پہنچا اور ڈرائیور سمیت وہ گاڑی کچھ دور پارک کرواکے مسلسل ثناء کو فون کرنے لگا لیکن اسے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔
2 جون، پیر کی شام تقریباً 5 بجے ملزم گھر میں داخل ہوا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ثناء یوسف کے سینے میں دو گولیاں لگیں۔ ثناء یوسف کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔
یہ کیس دیکھتے ہی دیکھتے زبان زد عام ہوگیام انصاف کے لیے آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔ پولیس پر دباؤ بڑھنے لگا۔ پولیس ٹیموں نے سیلولر ٹیکنالوجی سمیت مختلف ٹیکنالوجی پر کام کیا اور اس دوران 300 فون کالز کا تجزیہ کیا گیا۔ ثناء یوسف کا موبائل فون ملزم اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ ایک چھاپہ فیصل آباد میں اور دو چھاپے جڑانوالہ میں مارے گئے اور ملزم عمر کو انہی چھاپوں کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا۔
گرفتاری کے بعد قانونی لڑائی شروع ہوئی۔ 13 جون کو ملزم عمر حیات کی شناخت پریڈ ہوئی اور جڑانوالہ سے اس کا دوسرا موبائل فون بھی برآمد ہوا۔ 20 ستمبر کو ملزم عمر حیات پر فرد جرم عائد کی گئی۔ 25 ستمبر کو پہلی گواہی ریکارڈ کی گئی اور کیس میں مجموعی طور پر 31 گواہان شامل تھے جن میں سے 27 کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
ملزم کے وکیل نے بار بار کیس رکوانے کی کوشش کی۔ کبھی جج پر اعتماد نہ ہونے کا اظہار ہوا تو کبھی کیس کسی دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے جج پر جانبداری اور بدتمیزی کے الزامات بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کیس منتقلی کی درخواست خارج کر دی اور کہا کہ بار بار التواء مانگنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اور پھر خود ثناء کی والدہ اور والد اور پھوپھو نے بھی عدالت میں گواہی دی۔ ایک ماں جو اپنی بیٹی کے قاتل کے سامنے کھڑی ہوئی اور بیان دیا۔۔۔یہ کتنا کٹھن لمحہ رہا ہوگا۔۔ اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جو ماں باپ ہیں۔
آج، 19 مئی 2026 کو اسلام آباد کی عدالت میں وہ لمحہ آیا جس کا انتظار لاکھوں لوگوں کو تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے ثناء یوسف قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے مجرم عمر حیات کو سزائے موت سنائی۔ اس کے علاوہ ڈکیتی کی دفعات اور گھر میں گھسنے کی دفعات سمیت 3 دفعات کے تحت مجموعی طور پر 20 سال قید اور 24 لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔
عدالتی فیصلے کے بعد ثناء یوسف کی والدہ نے کہا کہ ‘پولیس اور میڈیا نے ہمارا بہت ساتھ دیا ہے۔ آج عدالت سے ہمیں انصاف مل گیا ہے۔’ انہوں نے کہا کہ ‘ہم عدالت کے فیصلے پر بہت خوش ہیں، مجرم کو سرعام پھانسی ہونی چاہیے۔’
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت قانون نے اپنا کام کیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا۔ قاتل کو سزا ملی لیکن یہ صرف ثناء یوسف کی کہانی نہیں ہے۔ یہ اس ملک میں لاکھوں لڑکیوں کی کہانی ہے جو ہر روز صرف ‘نا’ کہنے پر گالیوں اور دھمکیوں کی صورت میں قیمت چکاتی ہیں۔۔۔ اور پھر خدا نخواستہ ثناء یوسف کی طرح قیمت چکانے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔۔
ثناء نے کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ اس نے بس ایک ایسے شخص سے ملنے سے انکار کیا جسے وہ جاننا نہیں چاہتی تھی۔ نا کا مطلب نا ہی ہوتا ہے اور یہ نا کہنا ہر لڑکی کا حق ہے۔




