معروف اداکار، ہدایتکار اور میزبان یاسر حسین نے پاکستانی فلم انڈسٹری اور اس پر عائد ثقافتی پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب ناظرین نورا فتیحی جیسے انٹرنیشنل آئٹم سانگز دیکھ چکے ہوں، تو پاکستانی آئٹم نمبر کو کون ترجیح دے گا؟
ایک حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے یاسر حسین نے کہا کہ پاکستانی سینما کو آگے بڑھانے کے لیے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا ثقافتی بیانیہ کیا ہے۔ ’’ہم 70 کی دہائی سے پہلے والے کلچر کو مانتے ہیں یا اس کے بعد والے دور کو؟‘‘
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کو 80 سال گزر گئے، عالمی امن پر خطرات پھر منڈلانے لگے
یاسر حسین نے ماضی کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ میڈم نور جہاں جیسی لیجنڈری شخصیات کی فلموں میں بھی آئٹم سانگز شامل ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ اُس وقت ہمارے کلچر کا حصہ تھے، تو اب اچانک ان پر اعتراض کیوں ہونے لگا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیں دوہرے معیار سے نکلنا ہوگا اور اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا واقعی ہم اپنی ثقافتی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا ہر چیز کو متنازع بنا کر خود ہی انڈسٹری کا نقصان کرنا ہے۔




