لاہور – لاہور کے علاقے شاہ دی کھوئی میں ایک شخص کے غیر قانونی طور پر رکھے گئے پالتو شیر نے خوفناک حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں دو بچے اور ایک خاتون شدید زخمی ہو گئے۔
واقعے کے مطابق شیر ایک دیوار پھلانگ کر رہائشی علاقے میں نکل آیا اور راہگیروں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔ سب سے پہلے ایک خاتون اس کی زد میں آئیں، جنہیں شیر نے زمین پر گرا کر بری طرح زخمی کیا۔ خوش قسمتی سے وہ جان بچانے میں کامیاب رہیں۔ اس کے بعد شیر نے دو بچوں پر حملہ کیا۔
زخمی بچوں کی شناخت 7 سالہ اذہان اور 5 سالہ زویا کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دونوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ زخمی خاتون کو بھی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق شیر کے آزاد گھومنے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں میں چھپ گئے۔ مقامی افراد نے واقعے پر شدید غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ رہائشی علاقے میں جنگلی جانور پالنا سنگین غفلت اور خطرناک عمل ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز کے حکم پر وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور شیر کو قابو میں لے کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ شیر کو بعد ازاں وائلڈ لائف حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ڈی آئی جی نے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اور کسی کو بھی ذاتی شوق یا تفریح کے لیے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس واقعے نے شہری علاقوں میں جنگلی جانوروں کی غیر قانونی ملکیت اور وائلڈ لائف قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے پر ایک بار پھر تشویش کو جنم دیا ہے۔




