Torkham border partially reopened, Afghan refugees begin returning

طورخم بارڈر جزوی طور پر بحال، افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا سلسلہ شروع

پاک-افغان طورخم بارڈر، جو حالیہ سیکیورٹی کشیدگی کے باعث بند تھا، آج افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بارڈر تقریباً ایک ماہ تک مکمل بند رہا، جبکہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے تجارت اور عام شہریوں کی آمدورفت بھی معطل ہے اور تاحال تجارتی سرگرمیاں بحال نہیں ہو سکیں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بارڈر کو محدود پیمانے پر صرف افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے کھولا گیا ہے، جبکہ تجارت اور عام افراد کی آمدورفت بدستور بند رہے گی۔

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو سرکاری دفاتر کیلئے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی اراضی لینے سے روک دیا

دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد افغان شہریوں کو گرفتار کر کے فارن ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت طورخم کے راستے افغانستان واپس بھجوا دیا ہے۔

حکام کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی حالات بہتر ہونے پر بارڈر کو مکمل طور پر کھولنے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔