ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح آیا اور مالک سے کہا:
“مجھے آپ کے ہوٹل کا سب سے بہترین کمرہ دکھائیں۔”
مالک نے اُسے چابی دی۔
سیاح نے اعتماد کے طور پر سو ڈالر کاؤنٹر پر رکھے اور کمرہ دیکھنے چلا گیا۔
اتنے میں قصبے کا قصاب آیا اور اپنے گوشت کی رقم مانگی۔
ہوٹل والے نے وہی سو ڈالر اٹھا کر قصاب کو دے دیے، کیونکہ اُسے یقین تھا کہ سیاح کو کمرہ پسند آ جائے گا۔
قصاب نے فوراً وہ رقم جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی، کیونکہ وہ اُس کا قرض دار تھا۔
کرپشن کے خاتمے کے لئے بہترین تجویز
جانور سپلائی کرنے والے نے وہی رقم ایک ڈاکٹر کو دے دی، جس سے اُس نے علاج کروایا تھا۔
ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا،
اُس نے وہی سو ڈالر ہوٹل کے مالک کو اپنے کمرے کے کرائے کے طور پر ادا کر دیے۔
اب وہی نوٹ پھر کاؤنٹر پر پڑا تھا۔
اتنے میں سیاح واپس آیا اور بولا:
“معاف کیجیے، مجھے کمرہ پسند نہیں آیا۔”
یہ کہہ کر اُس نے اپنا سو ڈالر اٹھایا اور چلا گیا .
یوں نہ کسی نے کچھ کمایا،
نہ کسی نے کچھ خرچ کیا…
مگر پورا قصبہ اپنے اپنے قرض سے آزاد ہو گیا .




