معشیت کے استحکام میں رکاوٹ بننے والے عناصر کے خلاف ماضی میں بھی کارروائی کی ہے آئندہ بھی بلاتفریق سخت کارروائی کی جائے گی، آئی جی سندھ غلام نبی میمن۔سندھ پولیس کی اپیل پر تاجر برادری کی جانب سے کاروباری مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب و تعاون قابل تحسین عمل ہے۔آئی جی سندھ
معیشت کے تسلسل وفروغ میں سندھ حکومت،پولیس،قانون نافذکرنے والے دیگرادارے اور تاجربرادی شانا بشانہ کھڑی ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پولیس روزانہ کی بنیاد پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اے آئی جی آپریشنز نے کراچی میں مختلف جرائم سے متعلق گزشتہ و رواں سال کے اعدادوشمار کے تقابلی جائزہ پرمبنی رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کردی۔ رواں سال کراچی میں مجموعی طورپر 118بھتہ خوری کی واقعات رپورٹ ہوئے۔ صرف 44 کیسزبھتہ خوری سے متعلق تھے جن پر باقاعدہ تحقیقات کی گئیں۔بقیہ 74 شکایات کاروباری / ذاتی تنازعات و لین دین کی تھیں۔
بھتہ خوری کے 44کیسز میں سے 39کیسزکو حل کرلیا گیا جن کی شرح 87فیصد بنتی ہے۔مذکورہ کیسز میں 78 ملزمان کی شناخت ہوئی جن میں 43 ملزمان کو گرفتار جبکہ 05 ملزمان مختلف پولیس مقابلوں میں ہلاک ہوئے۔گذشتہ ہفتہ آئی جی سندھ سے تاجربرادری کی ملاقات کے بعد 10 دنوں میں 04 بھتہ خور پولیس مقابلے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
امریکا نے غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل کو کم از کم 21.7 ارب ڈالر کی عسکری امداد فراہم کی ہے
ہلاک بھتہ خوروں میں عابد ہادی،سعید،غلام قادر اور کاٹھیاواڑی گروپ کا احتشام عرف آصف برگر نامی بھتہ خور شامل ہے۔گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں غیرمعمولی و واضح کمی واقع ہوئی ہے۔جنوری 2024 میں پرتشددجرائم کی شرح 2.13 یومیہ تھی جو بتدریج کم ہو کر ستمبر 2025 تک 1.06 ہوگئی۔جنوری 2024 کے مقابلے ستمبر 2025 میں پرتشدد جرائم کے واقعات میں 52 فیصد تک کمی آئی ہے۔
گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال کراچی میں موبائل فونز چھیننے کے واقعات میں 38 فیصد، وہیکل چھیننے کے واقعات میں43 فیصد اور وہیکل چوری کے واقعات میں 34 فیصد تک کمی آئی ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر اسٹریٹ کرائم میں 36 فیصد تک کمی سامنے آئی ہے۔ سال 2024 کے دوران یومیہ اسٹریٹ کرائم 252 تھے جبکہ رواں سال ستمبر تک یومیہ 167 ہیں۔
رواں سال کراچی میں اغواء برائے تاوان کے مجموعی 34 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں مغویوں کی تعداد 37 تھی۔37 مغویوں میں سے 35 کو سندھ پولیس نے بازیاب کروالیا جبکہ دو مغویان کی بازیابی کے لیئے اقدامات جاری ہیں۔دونوں بقایا کیسز ہنی ٹریپ کیسز ہیں، اور بازیابی کے عمل میں ہیں۔پولیس ایکشن کے دوران اغواء کے 34 کیسز میں 46 اغواء کار گرفتار جبکہ 02 ہلاک ہوئے۔ تاجر برادری کے تعاون سے صوبے میں امن و امان اور کاروباری ماحول کے استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، آئی جی سندھ




