Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Muhammad Sohail Afridi attended a meeting held at the President's Office.

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ایوان صدر میں منعقدہ اجلاس میں شرکت

نیشنل و ریجنل کرائسز پر اجلاس میں خیبرپختونخوا کا واضح مؤقف سامنے رکھا گیا, عوام کے خلاف کسی بھی فیصلے کا نہ حصہ بنیں گے نہ اس کی حمایت کریں گے.

اجلا س میں پیٹرول و ڈیزل بحران اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا.

کورونا وبا اور امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے وقت عمران خان نے ایک اسٹیٹ مین کاُ کردار ادا کیا اور ملک کو منفی اثرات سے بچایا، موجودہ صورتحال میں ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے جس سے معاشی سرگرمی متاثر ہو،

معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے فیصلوں سے گریز کیا جائے، کفایت شعاری کا آغاز منتخب نمائندوں اور ریاستی اداروں سے ہونا چاہیے،

خطے میں کشیدگی کے دوران پاکستان کو امن و مذاکرات کا کردار ادا کرنا چاہیے، مسلم دنیا بحران میں پاکستان کی طرف دیکھتی ہے، او آئی سی کو فعال کرنا ہوگا،

سوشل میڈیا، خواتین اور محبت

لاک ڈاؤن سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کل سب کمیٹی اجلاس ہوگا،

این ایف سی میں قبائلی اضلاع کے 1375 ارب روپے سے زائد شیئر تاحال ادا نہیں کیے گئے, سات سال سے قبائلی اضلاع کا حق دیگر صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،

این ایف سی ایوارڈ 2018 سے غیر آئینی طور پر چل رہا ہے، این ایف سی شیئر نہ دینے پر صوبے سے مزید وسائل مانگنا قابل قبول نہیں،

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا فرنٹ لائن پر ہے، سیلاب اور کاؤنٹر ٹیررزم میں وفاق سے ایک روپیہ نہیں لیا.

صحت کارڈ اور رمضان پیکج میں 100 ارب روپے سے زائد عوام پر خرچ کیے گئے.

عدالتوں میں ہمارے کیسز نہیں لگائے جا رہے، عمران خان سے ملنے نہیں دیا جا رہا، عوام کو فائدہ ہو تو ہر پالیسی میں ساتھ دیں گے، نقصان ہوا تو مخالفت کریں گے.