خالصتان تحریک سکھوں کی انڈیا سے آزادی کی تحریک ہے۔ تھوڑا سا اس تحریک اور اس کے پس منظر کو بھی جان لیں۔ 1953ء مشہور سکھ لیڈر ماسٹر تار سنگھ نے کہا ۔۔ ” انگریزوں کے جانے کے بعد بھی ہم غلام ہی ہیں۔ پہلے ہمارے آقا گورے تھے اب کالے ہیں ” ۔ 1980ء تک سکھوں کی آواز دبانے کے کم از کم 400 سکھوں کو قتل کیا جا چکا تھا ۔
1984ء کا سال سکھوں پر قیامت بن کر گزرا ۔ انتہاپسند ہندو لیڈر اندرا گاندھی کے حکم پر سکھوں کے مقدس ترین مقام ہری سنگھ گوردوارا ( گولڈن ٹیمپل ) پر ہزاروں بھارتی فوجیوں نے پوری قوت سے حملہ کر دیا ۔ اس حملے میں ٹینکوں اور توپوں کا بھرپور استعمال کیا گیا ۔ اس وقت وہاں 100 سے 150 کے قریب مزاحمت کار موجود تھے ۔
مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں کیوں سیاست کر رہے ہیں
لیکن اس آپریشن میں وہاں موجود ہزاروں کی تعداد میں آئے بے گناہ سکھ زائرین کو نہایت بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ صدیوں پرانے اور تاریخی گولڈن ٹیمپل کو تباہ کر دیا گیا اور سکھوں کی مذہبی مقدس ترین عمارت “اکل تخت” کو ملیامیٹ کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جسکا ازالہ ممکن ہی نہیں ۔ یہ زخم ہر سکھ کے دل پر لگا ۔ نتیجے میں اندرا گاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز نے قتل کر دیا۔




