اسے فل فرائی کیوں کیا گیا ؟ کئی ماہ بعد ایس پی آفتاب پھلرواں نے اندر کی کہانی بتا دی آفتاب پھلرواں کے مطابق جب لاہور میں خاتون کے کانوں سے بالیاں چھیننےو الا واقعہ ہوا تو یہ ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا ، ہم نے دن رات کی شدید محنت کے بعد ملزم کو ٹریس کیا اور اسکا ریکارڈ نکلوایا تو پتہ چلا کہ یہ ملزم 15 سال سے خواتین کے زیور نوچنے یا چھیننے کی وارداتوں میں ملوث تھا اسکے خلاف درجنوں مقدمات تھے وہ 10 بار جیل گیا اور چند ماہ بعد واپس آجاتا تھا ۔
آفتاب پھلروان نے دعویٰ کیا کہ لاہور کے شہری بے شک گھر کا دروازہ کھول کر سو جایا کریں اگر نقصان ہوا تو سی سی ڈی ذمہ دار ہو گی ، کوئی خاتون سر پر زیورات کا تھال رکھ کر بازاروں یا سڑکوں پر گھومتی رہے اگر اسکے ساتھ کچھ ہو تو ہم سےجواب طلب کیا جائے ، پنجاب میں درجنوں دیہی علاقے نوگوایریاز تھے اب جا کر وہاں کے لوگوں سے پوچھیں کہ جرائم کا کیا احوال ہے ہماری کارکردگی آپ کو وہ بتائیں گے ۔
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین مؤخر کردی گئی
سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں صرف اہک فریق کے نقصان پر ایس پی آفتاب پھلرواں نے بتایا کہ جب ہم کسی کو پکڑنے جاتے ہیں تو جرائم پیشہ ہمارا پھولوں سے استقبال نہیں کرتے وہ جی۔ تھری ، را۔کٹ ۔لانچر ، کلاشن۔ کوف اور بمءوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں ، ہماری ٹیمیں انتہائی تربیت یافتہ ہوتی ہیں اس لیے ہمارا جانی نقصان بہت کم ہوتا ہے ۔آفتاب پھلرواں نے کہا کہ ہم سروں پر کفن باندھ کر نکلے ہیں ، اپنے لوگوں ، ماؤں بہنوں اور بیٹوں کی حٖفاظت کے مشن میں ہماری جان بھی چلی جائے پرواہ نہیں ۔
آفتاب پھلروان نے وارن کیا کہ پنجاب کی ہر ماں بہن اور بیٹی سی سی ڈی کے شیر جوانوں کی اپنی ماں بہن اور بیٹی ہے انکا طرف جس نے بری نظر سے دیکھا اسکا انجام نیفے میں پستو۔ل کے علاوہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ، جسے اعتراض ہے بے شک ہوتا رہے ۔




