Brutal rape of 12-year-old boy in Sialkot during Ramadan, inhumane crime

سیالکوٹ میں ماہ رمضان میں انسانیت شکن جرم 12 سالہ بچے کے ساتھ وحشیانہ زیادتی

سیالکوٹ کے تھانہ حاجی پورہ کے علاقے میانہ پورہ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں دو افراد نے ایک 12 سالہ بچے کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا اس جرم نے پورے محلے کو ہلا کر رکھ دیا اور انسانیت کے لیے خوف اور شرم کا باعث بنا بچے کے والد محمد فاروق نے فوری طور پر مقدمہ درج کروایا اور تھانہ حاجی پورہ میں دونوں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو گئی ایس ایچ او انسپکٹر غازی میاں عبد الرازق نے فوری نوٹس لیتے ہوئے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا اور بتایا کہ شیطان نے ماہ رمضان میں بھی انسانوں کے روپ میں کھلے عام ظلم کا مظاہرہ کیا ہے معاشرہ کس گہرے زوال کی طرف جا رہا ہے یہ سوچ کر انسان کو گھبراہٹ اور خوف محسوس ہوتا ہے۔

کیا مرحوم والدین کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرسکتے ہیں؟

ملزمان چاند ولد محمد اعجاز اور اس کا ساتھی رمضان على ولد ثناء اللہ میانہ پورہ کے رہائشی ہیں جبکہ متاثرہ بچہ اسد ولد فاروق تحصیل ساہیوال ضلع سرگودھا کا رہائشی ہے اور اپنے والدین کے ہمراہ محلہ اسلام پورہ میانہ پورہ میں رہائش پزیر ہے*بچے کے والد محمد فاروق ولد محمد حیات محلے میں حجام کی دکان چلا کر اپنی روزی روٹی چلا تا ہے اس وحشت ناک واقعے نے نہ صرف بچے کی زندگی کو تباہ کر دیا بلکہ پورے محلے میں خوف اور سسکیوں کا سماں بہا کر دیا۔

ایس ایچ او انسپکٹر غازی میاں عبدالرازق نے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان کے مقدس دنوں میں بھی لوگ انسانیت کے لباس میں بھی شیطان کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں اور معاشرہ ایسے واقعات کے سامنے بے حس ہوتا جا رہا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی سماجی اقدار پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے بچے کی حفاظت اور معاشرتی شعور کے بغیر ایسے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔