21st Ramadan — Martyrdom Day of Amir al-Mu'minin Hazrat Ali (RA)

21 رمضان — یومِ شہادتِ امیر المؤمنین حضرت علیؓ

21 رمضان المبارک — یومِ شہادت
دامادِ رسول ﷺ،
سسرِ عمر بن خطاب،
ہم زلفِ عثمان بن عفان،
فاتحِ خیبر،
امیر المؤمنین اور خلیفۂ راشد
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر لاکھوں سلام۔

19 رمضان کی صبح جب حضرت علیؓ فجر کی نماز کے لیے مسجدِ کوفہ میں تشریف لائے تو ایک خارجی شخص عبدالرحمن بن ملجم نے زہر آلود تلوار سے آپؓ پر حملہ کر دیا۔ اس وقت آپؓ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلے:

“فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَة”
(کعبہ کے رب کی قسم! میں کامیاب ہوگیا)

دو دن تک زخموں کی تکلیف برداشت کرنے کے بعد 21 رمضان 40 ہجری کو آپؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

اعتکاف کے 15 اہم مسائل

زخمی حالت میں بھی حضرت علیؓ نے اپنے بیٹوں حسن بن علی اور حسین بن علی کو نصیحت فرمائی کہ:
* قاتل کے ساتھ زیادتی نہ کرنا
* اسے وہی کھانا دینا جو تم خود کھاتے ہو
* اسے آرام سے بستر پر سلانا
* اگر قصاص لینا ہو تو صرف ایک ہی وار کرنا، اس سے زیادہ تکلیف نہ دینا

حضرت علیؓ کی آخری نصیحتیں بھی امت کے لیے عظیم پیغام ہیں:
* اللہ سے ڈرتے رہو
* نماز کی حفاظت کرو
* یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھو
* ظلم اور زیادتی سے بچو

اسلام ہمیں انصاف، صبر اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی ظلم اور زیادتی کی اجازت نہیں دیتا۔ سچا مومن وہ ہے جو اپنے نفس اور غصے کو قابو میں رکھے اور ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ ذاتی انتقام کے لیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت علیؓ کی سیرت سے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔